ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کٹھوعہ سانحہ: سانجھی رام کا اعتراف جرم ،بیٹے کو بچانے کے لیے کیا بچی کا قتل 

کٹھوعہ سانحہ: سانجھی رام کا اعتراف جرم ،بیٹے کو بچانے کے لیے کیا بچی کا قتل 

Sat, 28 Apr 2018 11:55:24    S.O. News Service

جموں 27 اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں 8 سال کی بچی کی آبروریزی اور قتل کیس میں سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ تفتیشی پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ملزمین میں سے ایک سانجھی رام نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف جرم کرلیا ہے۔ سانجھی رام نے بتایا کہ اس کو بچی کے اغوا کے چار دن بعد آبروریزی اور اس میں اس کے بیٹے کے شامل ہونے کا علم ہوا ، جس کے بعد اس نے بچی کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔تفتیشی اہلکاروں کے مطابق 10 جنوری کو اغوا کی گئی بچی کی سب سے پہلے سانجھی رام کے نابالغ بھتیجے نے آبروریزی کی تھی۔ سانجھی رام کو 13 جنوری کو اس وقت اس واقعہ کا علم ہوا جب اس کے بھیتجے نے اپنا گناہ قبول کیا۔ اس نے تفتیشی اہلکاروں کو بتایا کہ اس نے دیوی استھان میں پوجا کی اور بھتیجے کو پرساد گھر لے جانے کیلئے کہا ، لیکن تاخیر کرنے پر اس نے غصہ میں اس کی پٹائی کردی ۔پٹنے کے بعد نابالغ نے سوچا کہ اس کے چچا کو لڑکی کی آبروریزی کی بات پتہ چل گئی ہے ، جس کے بعد اس نے خود ہی ساری باتیں قبول کرلیں۔ اس کے بعد اس نے اپنے چچا زاد بھائی وشال ( سانجھی رام کا بیٹا ) کو اس معاملہ میں پھنسایا اور کہا کہ دونوں نے مندر کی اندر اس کی آبروریزی کی ہے۔ اس بات کا علم ہونے کے بعد سانجھی رام نے بچی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچا تاکہ وہ اپنے بیٹا کو بچا سکے اور ساتھ ہی ساتھ بکروالا برادری کو بھگانے کے اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہوسکے۔بعد ازں سانجھی رام نے 14 جنوری کو بچی کا قتل کردیا۔ تاہم سبھی چیزیں اس کے منصوبہ کے مطابق نہیں ہوپائیں۔ وہ بچی کا قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو ہیرانگر نہر میں پھینکنا چاہتا تھا ، لیکن گاری کا بندوبست نہیں ہونے کی وجہ سے لاش کو اسی دیوی استھان میں لے آیا ، جس کا سانجھی رام سیوادار تھا۔ بعد میں بچی کی لاش 17 جنوری کو جنگل سے بر آمد ہوئی۔تفتیشی افسران کے مطابق سانجھی رام نے اپنے بھتیجا کو اعتراف جرم کیلئے رضامند کرلیا تھا ، لیکن بیٹا وشال کو اس سے دور رکھا اور اس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کو ریمانڈ ہوم سے جلد ہی باہر نکال لیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ اس معاملہ میں نابالغ کے علاوہ سانجھی رام ، اس کا بیٹا وشال اور پانچ دیگر کو ملزم بنایا گیا ہے۔


Share: